Realistic Story 2, Part 1

مجھ سے بڑی دو بہنیں ہیں میرے سے بڑی والی بہن کا نام کرن آپی ہے اور کرن آپی سے بڑی ہیں ندا آپی۔

میری اماں کا نام اسماء اور ابا کا نام جمال ہے۔

ابا پولیس کے محکمے میں ایک افسر ہیں اور اماں گھر میں کام کرتی رہتی ہیں۔

یہاں میں بتا دوں کہ کرن اپ کے ہمارے ساتھ نہیں رہتی۔

بلکہ وہ ہمارے نانا نانی کے پاس رہتی ہیں۔

اماں نانا نانی کی اکلوتی اولاد ہیں 

اماں کی شادی کے بعد نانا نانی اکیلے پڑ گئے تھے جب کرن اپی پیدا ہوئی تو ان کے تین سال بعد نانا نانی نے کرن اپی کو گود لے لیا 

گھر کے تین روم میں سے ایک روم میں ابا اماں رہتے تھے دوسرا روم جو بالکل ان کے روم کے ساتھ سامنے تھا وہ زیادہ تر بند ہی رہتا تھا پھر اس کے ساتھ تیسرے نمبر والا کمرہ اس میں میں اور ندا ابھی رہتے تھے

ندا اپ کی سیکنڈ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی اور میں فورتھ کلاس کا سٹوڈنٹ تھا میرا پی میں بچپن سے ہی مجھے بے پناہ پیار کیا اس لیے کہ ایک تو میں ان کے بھائی تھا اوپر سے عقل ہوتا ویسے تو مجھے سبھی گھر والے پیار کرتے تھے پر ندا اپی جتنا کوئی نہیں کرتا تھا ہمارے روم میں ڈبل بیڈ تھا جس پہ میں اور ندا پہ سویا کرتے تھے 

کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ رات کو جب ہم سو جاتے اور پھر کہیں رات کو دوبارہ میری انکھ کھلتی تو ندا بھی اپنی رضائی سے نکل کر میری عزائی میں ائی ہوتی تھی اور مجھے پیچھے سے اگ کیا ہوتا تھا 

اور اگر گرمیاں ہوتی تو ہم رضائی کی جگہ چادر رکھا کرتے اور اپ کی کبھی کبھی اپنی چادر سے میری چادر میں ا جاتی اور مجھے پیچھے سے اگ کر لیتی تھی اور اگر میں کروٹ بدل کہ نہیں سویا ہوتا تو وہ میرے ساتھ چپکی ہوتی اور میری پیٹھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے سوئی ہوتی اور میں بھی اپنی اپی کے اس لاڈ اور پیار کو دیکھتے ہوئے اور بغیر ان سے کچھ بات کیے سو جاتا

اپ ہی کا میرے ساتھ ایسے لپٹ کر سونا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شاید بہت عرصے سے تھا۔

پر جب میں 10 سال کی عمر میں پہنچا تو اہستہ اہستہ اپ کی کا ایسے حل کرنا مجھے عجیب لگنا شروع ہو گیا 

یا یوں کہنا چاہیے کہ مجھے سمجھ میں نہیں اتا تھا کہ ان کا مجھ سے یوں اپنے ساتھ چپکنے کا مطلب کیا ہے اور چپ کرنا کہ اپنے ساتھیوں دبانے کا مطلب کیا ہے یہ سب لاڈ پیار سے پرے کی کوئی بات ہے۔

پر وہ پریا کی بات کیا تھی میری چھوٹی سی عقل کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا وقت گزرتا جا رہا تھا اور اہستہ اہستہ میں اپنے بچپن سے نکلتے ہوئے اپنی نوجوانی کے راستے پہ گامزن ہونے کو تھا۔

اب میں 12 سال کا ہو چکا تھا اور چھٹی کلاس کا طالب علم تھا اور ندا اپ بھی 19 سال کی ہو چکی تھی اور انہوں نے لا کالج میں داخلہ لیا ہوا تھا۔



جب سے میں 12 سال کا ہوا تھا اماں مجھے ایک دو بار کہہ چکی تھی کہ بیٹا اب تم بڑے ہو گئے ہو الگ کمرے میں سویا کرو۔

اس کمرے میں جو اماں بابا کے کمرے کے سامنے تھا پر میں نہیں مانا کیونکہ مجھے اکیلے سونے میں ڈر لگتا تھا۔ اس ڈر کی وجہ تھی سب کا میرے سے بے انتہا پیار اور ہر وقت کی ایکسٹرا کیئر۔

ندا اپی کی اب بھی وہی روٹین تھی کہ ہفتے میں ایک اد بار وہ مجھے پیچھے سے لپٹ کر سو جایا کرتی تھی مجھے اج بھی یاد ہے سردیوں کی وہ عادی گزرتی رات جب میری انکھ کھلی تو اپی نے مجھے پیچھے سے اگ کیا ہوا تھا اور زور سے اپنے ساتھ چپکایا ہوا تھا۔

پہلی بار مجھے اپنے میں کچھ نیا محسوس ہوا وہ ایک احساس تھا بالکل ایک نیا احساس پر اس احساس کو کہتے کیا ہیں یہ احساس طاری ہونے کی وجہ کیا ہے یہ احساس اتنا اچھا لگ کیوں رہا ہے ان سوالوں کے جواب اس راہ کے اس ننھے منے سپاہی کو نہ مل سکے۔ 



اپ بھی میرے پیٹ پہ اپنا ایک بازو رکھے اور اس بازو کے اگے موجود ہاتھ سے میری کمر کو پکڑے ہوئے میرے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔

یعنی اپ بھی کا سینہ میری پیٹھ کے ساتھ بالکل جڑا ہوا تھا اور میرے حفظ ان کی ناف کے نیچے والے حصے میں دھنسے ہوئے تھے اور ان کی لیگز کا ایک باقی سب میری لیگز کے ساتھ جڑا ہوا تھا شاید اپ کی کا خیال میں میں سو رہا تھا پر میں نہیں سو رہا تھا میں تو جاگ رہا تھا اور اس نئے پیدا ہوئے احساس کہ اتار چڑھاؤ کو محسوس کر رہا تھا ایک تبدیلی سی ا رہی تھی ایک تبدیلی مجھ میں۔کافی دیر ایسے ہی میرے ساتھ جڑی لیٹی رہی اور پھر پیچھے کو ہوئی اور اپنی رضائی میں واپس چلی گئی۔اج مجھے پہلی بار ان کا یوں واپس چلے جانا سے ایسا لگنے لگا کہ جیسے کچھ ادھورا سا رہ گیا ہے کوئی کمی سی محسوس ہونے لگی مجھے بے چین سا ہو کے رہ گیا ہوں میں یہ کمی یہ ادھورا پن یہ بے چینی کس چیز کے لیے تھی اس سے میں انجان تھا۔



اگلے دن جب میں تیار ہو کے کمرے سے باہر ایا تو اپی کمپنی ٹی وی والے کمرے میں بیٹری ناشتہ کر رہی تھی ہم لوگ ناشتہ اور کھانا وغیرہ ٹی وی والے کمرے میں ہی صوفہ پہ بیٹھ کر کرتے ہیں کیونکہ ناشتہ اور کھانے کے ساتھ ساتھ ہم اس طرح ٹی وی بھی دیکھ لیتے تھے اپی نے روز کی طرح مجھ سے نارمل گپ شپ کی جو رات کو ان کے اور میرے درمیان ہوا اس کے بعد نارمل گپ شپ اپی کے ساتھ کرنا مجھے تھوڑا عجیب لگ رہا تھا۔

پر یہ سب تو بہت پہلے سے چل رہا تھا فعل مجھے ان سے نارمل بات کرنا عجیب کیوں لگ رہا تھا نانا معصوم سپاہی اپنے اپ سے اس سوال کا جواب بھی نیا پا سکا۔سارا دن ایک عجیب سی بے چینی میں بس اسی انتظار میں کہ رات ہو اور اب مجھے پھر سے وہی فیل ہو جو گزری ہوئی رات میں میں نے پہلی بار فیل کیا تھا رات ہوئی اور اج تو میں خود ہی کروٹ بدل کے لیٹ گیا۔اپی ابھی تک اس بات سے انجان تھی کہ میں ان کو حق والی بات جان گیا ہوں اپی کی روز کی روٹین تھی کہ وہ رات کو اپنے سٹڈی کے سٹڈی کیا غلطی اور جب میں سونے کے لیے لیٹ جاتا تو وہ لوگوں کی لائٹ اف کر کے اپنی سائیڈ ٹیبل پہ موجود لیمپ ان کر لیا کرتی تھی اور ہاں جب وہ سونے والے سونے کے لیے لیتی تو لیمپ اف کر کے زیرو واٹ کا بلب ان کر لیا کرتی تھی